پاکستان کی 15 فیصد نوجوان آبادی دماغی بیماریوں میں مبتلا

پاکستان کی 15 فیصد نوجوان آبادی دماغی بیماریوں میں مبتلا

 دماغی بیماریوں میں مبتلا

دنیا بھر میں دماغی صحت کو اہمیت دی جا رہی ہے، لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں یہ مسئلہ اب بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی 15 فیصد نوجوان آبادی کسی نہ کسی دماغی بیماری کا شکار ہے۔ یہ ایک ایسا لمحۂ فکریہ ہے جو صرف متاثرہ افراد یا اُن کے خاندانوں کا نہیں بلکہ پورے معاشرے اور ریاست کا ہے۔

ذہنی بیماری: نظر انداز کیا گیا المیہ

اکثر اوقات ہم دماغی بیماریوں کو ایک “کمزور ذہن” یا “گھریلو دباؤ” کا نام دے کر رد کر دیتے ہیں۔ لیکن سائنس اور تحقیق اس بات کو واضح کر چکی ہے کہ ڈپریشن، اینگزائٹی، بائی پولر ڈس آرڈر، اور دیگر نفسیاتی مسائل حقیقی بیماریاں ہیں جنہیں بروقت توجہ، علاج اور مدد کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں خاص طور پر نوجوان طبقہ جسے قوم کا مستقبل کہا جاتا ہے، سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو تعلیمی دباؤ، معاشی مسائل، سماجی دباؤ اور ڈیجیٹل زندگی کے تضادات کا سامنا کر رہی ہے۔ لیکن ان کے لیے مؤثر ذہنی صحت کی سہولیات کا فقدان ایک بڑا چیلنج ہے۔

سماجی رویے اور خاموشی کا کلچر

ہمارے معاشرے میں ذہنی بیماری کو اب بھی شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ لوگ ڈرتے ہیں کہ اگر کسی نے جان لیا کہ وہ کسی ذہنی مسئلے کا شکار ہیں تو لوگ انہیں “پاگل” سمجھیں گے۔ اسی خوف کے باعث کئی نوجوان علاج کی طرف رجوع ہی نہیں کرتے۔ اسکولوں، کالجوں اور گھروں میں اس موضوع پر خاموشی چھائی ہوئی ہے، جو اس بحران کو مزید گہرا کرتی ہے۔

دماغی صحت کی سہولیات کا فقدان

پاکستان میں فی ایک لاکھ افراد پر صرف چند ہی ماہر نفسیات موجود ہیں۔ دیہی علاقوں میں تو یہ سہولیات تقریباً ناپید ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں نفسیاتی وارڈز یا تو ناکافی ہیں یا وسائل کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ پرائیویٹ علاج اتنا مہنگا ہے کہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔

نوجوانوں کے لیے مخصوص اقدامات کی ضرورت

اگر پاکستان کو مستقبل میں ایک مستحکم اور صحت مند معاشرہ بنانا ہے تو حکومت، تعلیمی اداروں، اور والدین کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔ اسکولوں اور کالجوں میں دماغی صحت سے متعلق آگاہی مہمات چلائی جائیں، کونسلنگ سینٹرز قائم کیے جائیں، اور نوجوانوں کو اپنے جذبات کھل کر بیان کرنے کا ماحول فراہم کیا جائے۔

میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کا کردار

میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ایک مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ اگر ڈراموں، ویب سیریز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز دماغی صحت کے بارے میں کھل کر بات کریں تو عوامی رویوں میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ذہنی بیماری کو کمزوری نہیں، بلکہ ایک قابلِ علاج حقیقت تسلیم کریں۔


Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *