پاکستان میں پہلی بار بچے کا پیدائش کے ساتھ ہی ڈیجیٹل اندراج

پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے نومولود بچے کا پیدائش کے وقت ہی ڈیجیٹل اندراج کر دیا ہے۔ یہ جدید اقدام حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نئی ڈیجیٹل رجسٹریشن پالیسی کا پہلا عملی مظاہرہ ہے، جو ملک میں شہری ڈیٹا کے درست، شفاف اور فوری اندراج کو ممکن بنانے کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ کامیاب اندراج اسلام آباد کے ایک سرکاری اسپتال میں عمل میں آیا، جہاں بچے کی پیدائش کے چند لمحوں بعد ہی اس کا نام، ولدیت، وقت پیدائش اور دیگر ضروری معلومات قومی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس میں خودکار نظام کے تحت محفوظ کر دی گئیں۔
محکمہ نادرا اور وزارت داخلہ کے تعاون سے تیار کیے گئے اس نظام کا مقصد پیدائش کے اندراج کو نہ صرف آسان بنانا ہے بلکہ جعلی دستاویزات، شناختی مسائل اور آبادی کے درست اعداد و شمار میں حائل رکاوٹوں کو بھی دور کرنا ہے۔
وزیر داخلہ نے اس موقع پر ایک بیان میں کہا،
“یہ قدم نہ صرف پاکستان میں گڈ گورننس کو فروغ دے گا بلکہ اقوامِ متحدہ کے دیے گئے ایس ڈی جیز اہداف کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔ ہر بچے کو اس کی پیدائش کے وقت شناخت دینا بنیادی انسانی حق ہے۔”
اس ڈیجیٹل نظام کے تحت رجسٹریشن کا عمل کسی بھی تاخیر، کاغذی کارروائی یا رشوت سے پاک ہو گا، اور شہریوں کو پیدائش سرٹیفکیٹ کے حصول میں سہولت میسر آئے گی۔ آئندہ مرحلے میں اس نظام کو ملک بھر کے تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں تک توسیع دی جائے گی۔
یہ اقدام نہ صرف ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال کی مثال ہے بلکہ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کے نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔