چائے میں بھی پلاسٹک کے ذرات، خطرناک انکشاف

چائے میں بھی پلاسٹک کے ذرات، خطرناک انکشاف

چائے میں بھی پلاسٹک کے ذرات

چائے پاکستانی گھروں کا لازمی حصہ ہے۔ صبح کا آغاز ہو یا شام کی محفل، مہمان نوازی کا موقع ہو یا اکیلے کا سکون، چائے ہمیشہ ساتھ ہوتی ہے۔ لیکن حالیہ ایک تحقیق نے چائے کے شوقین افراد کو چونکا دیا ہے — کیونکہ اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چائے کے کچھ ٹی بیگز میں پلاسٹک کے نہایت باریک ذرات پائے جا سکتے ہیں۔

تحقیق کیا کہتی ہے؟

ماہرینِ صحت کے مطابق کچھ چائے بنانے والی کمپنیاں اپنے ٹی بیگز کو مضبوط بنانے کے لیے خاص قسم کے پلاسٹک کا استعمال کرتی ہیں۔ جب یہ بیگ ابلتے پانی میں ڈالا جاتا ہے تو پلاسٹک کے مائیکرو ذرات چائے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ ذرات نہ صرف انسانی جسم میں داخل ہوتے ہیں بلکہ وقت کے ساتھ صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں

پلاسٹک کے ذرات سے ممکنہ نقصانات

ہاضمے کے مسائل: پلاسٹک کے ذرات آنتوں میں جمع ہو کر سوزش اور جلن پیدا کر سکتے ہیں۔

ہارمونی نظام میں بگاڑ: کچھ پلاسٹک میں موجود کیمیکل ہارمونز کے توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔

مدافعتی نظام کمزور ہونا: بار بار پلاسٹک کے ذرات جسم میں جانے سے مدافعتی نظام پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔

کینسر کا خدشہ: طویل عرصے تک یہ ذرات کینسر پیدا کرنے والے عوامل کو بڑھا سکتے ہیں۔

کون سی چائے زیادہ محفوظ ہے؟

تحقیق میں ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو ڈھیلی پتی کا استعمال کیا جائے۔ اس کے علاوہ، کپڑے یا کاغذ کے بنے ہوئے بایوڈیگریڈیبل ٹی بیگز بھی ایک بہتر متبادل ہیں۔

ہم اپنی صحت کیسے بچا سکتے ہیں؟

ڈھیلی پتی والی چائے استعمال کریں۔

ایسے برانڈز کا انتخاب کریں جو پلاسٹک فری ٹی بیگز بناتے ہوں۔

چائے بنانے کے لیے اسٹیل یا مٹی کے برتنوں کا استعمال کریں۔

روزانہ کی خوراک میں سبزیاں اور فائبر والی غذائیں شامل کریں تاکہ جسم میں داخل ہونے والے نقصان دہ ذرات کو نکالا جا سکے۔

ماہرین کی رائے

صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک ایک عالمی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ یہ صرف چائے میں نہیں بلکہ پینے کے پانی، مچھلیوں، اور یہاں تک کہ ہوا میں بھی پائے جاتے ہیں۔ چائے میں ان کی موجودگی چونکہ براہِ راست انسانی صحت سے جڑی ہے، اس لیے اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *