پاکستان منی لانڈرنگ اسکیموں کی مؤثر روک تھام میں ناکام رہا، آئی ایم ایف

پاکستان منی لانڈرنگ اسکیموں کی مؤثر روک تھام میں ناکام رہا، آئی ایم ایف

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی حالیہ جائزہ رپورٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اب تک منی لانڈرنگ اسکیموں کی مؤثر روک تھام میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔

آئی ایم ایف کے مطابق، پاکستان نے اگرچہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے متعدد قانونی اور ادارہ جاتی اقدامات کیے ہیں، تاہم ان پر مکمل عملدرآمد میں سستی اور کمزور نگرانی کے باعث منی لانڈرنگ کا نیٹ ورک اب بھی سرگرم ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی اداروں کی کمزور ریگولیٹری نگرانی، مشکوک لین دین کی رپورٹنگ میں کمی، اور انفورسمنٹ ایجنسیوں کی استعداد کار کی کمی ان خامیوں میں شامل ہیں جن کی وجہ سے منی لانڈرنگ پر قابو پانا مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے، شفافیت کو فروغ دے، اور مشتبہ مالی سرگرمیوں کی نگرانی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرے تاکہ بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اعتماد بحال ہو سکے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق، اگر منی لانڈرنگ کی روک تھام میں بہتری نہ لائی گئی تو نہ صرف عالمی اداروں کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں بلکہ بیرونی سرمایہ کاری پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔


Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *