سوات میں سیلابی تباہی جاری — مزید 8 لاشیں برآمد، ہلاکتیں 20 تک جا پہنچیں

خیبرپختونخوا کے حسین وادی سوات میں قدرتی آفت نے ایک بار پھر قیامت برپا کر دی۔ حالیہ شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں سے مزید 8 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 20 ہو گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ریسکیو ٹیمیں مسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، تاہم بعض علاقوں میں راستے منقطع ہونے کے باعث مشکلات درپیش ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
بارشوں کے بعد ندی نالے بپھر گئے، جنہوں نے گھروں، کھیتوں اور سڑکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ متاثرہ علاقوں میں پاک فوج، ریسکیو 1122 اور مقامی رضاکار امدادی کارروائیوں میں شریک ہیں۔
متاثرہ خاندان کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں، جبکہ فوری امداد اور محفوظ مقامات کی فراہمی کے لیے حکومت سے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
ادھر ماہرین موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے الرٹ جاری کر دیا ہے، جس کے پیش نظر عوام کو نشیبی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔