ذہنی صحت: ایک خاموش جنگ جسے ہم نظر انداز کر رہے ہیں

زندگی کی دوڑ میں ہم جسمانی صحت کے بارے میں تو شعور رکھتے ہیں، مگر ذہنی صحت ایک ایسا موضوع ہے جس پر آج بھی ہمارے معاشرے میں بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ ذہنی سکون اور توازن کے بغیر انسان کی زندگی ایک بے رنگ اور بوجھل سی کیفیت اختیار کر لیتی ہے۔ ایک صحت مند ذہن ہی صحت مند جسم، مثبت رویے اور کامیاب زندگی کی بنیاد ہوتا ہے۔
ذہنی صحت کیا ہے؟
ذہنی صحت کا مطلب صرف پاگل پن سے بچاؤ نہیں، بلکہ یہ ہمارے خیالات، احساسات، جذبات، فیصلوں اور تعلقات میں توازن کا نام ہے۔ ایک ذہنی طور پر صحت مند انسان نہ صرف خود بہتر محسوس کرتا ہے بلکہ دوسروں سے مؤثر طور پر بات چیت کرتا، اپنے مسائل کو سمجھتا اور ان کا حل تلاش کرتا ہے۔
بدقسمتی سے، ہمارے معاشرے میں اسے یا تو مذاق بنایا جاتا ہے یا مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ذہنی صحت کتنی اہم ہے؟
یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ذہنی صحت، جسمانی صحت جتنی ہی اہم ہے، بلکہ بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اسکولوں، دفاتر اور گھروں میں ذہنی صحت کے لیے باقاعدہ سہولیات موجود ہیں، جب کہ ہمارے ہاں اس موضوع پر گفتگو بھی کم ہوتی ہے۔ ذہنی تندرستی نہ صرف ذاتی زندگی بلکہ تعلیمی، پیشہ ورانہ اور معاشرتی کامیابی کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔
ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلے معاشرے میں آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی حالت جانچنے کے لیے کونسلرز تعینات کیے جائیں، اور والدین کو بھی یہ سکھایا جائے کہ وہ بچوں کی بات سننے اور سمجھنے کا وقت نکالیں۔ یوگا، مراقبہ، ورزش، نیند کی پابندی اور مثبت گفتگو ذہنی سکون کے اہم ذرائع ہیں۔ سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال سے پرہیز، خود سے وقت گزارنا، اور دوستوں سے دل کی بات کرنا ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ذہنی تندرستی کو زندگی کا لازمی جزو سمجھیں اور اس پر ویسا ہی توجہ دیں جیسا ہم ظاہری صحت پر دیتے ہیں۔