تعلیم – ترقی کی کنجی اور صحت مند معاشرے کی بنیاد*

تعلیم – ترقی کی کنجی اور صحت مند معاشرے کی بنیاد

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ صرف کتابوں کے علم تک محدود نہیں بلکہ فرد کی سوچ، نظریہ، اخلاقیات، معاشرتی برتاؤ اور عملی زندگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ فرد نہ صرف خود کامیاب زندگی گزارتا ہے بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں، معاشرے اور ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تعلیم کی بدولت افراد میں شعور بیدار ہوتا ہے، وہ اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہ ہوتے ہیں، اور بہتر فیصلے کرنے کے قابل بنتے ہیں۔

ترقی یافتہ اقوام کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان کی بنیاد تعلیم پر رکھی گئی ہے۔ جاپان، جرمنی، امریکہ جیسے ممالک نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنایا اور آج وہ دنیا میں ترقی کے بامِ عروج پر ہیں۔ ان ممالک میں ہر فرد کو تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے، اور تعلیم یافتہ معاشرہ نہ صرف معیشت کو فروغ دیتا ہے بلکہ سیاسی استحکام، سماجی ہم آہنگی اور سائنسی ترقی میں بھی معاون ہوتا ہے۔

تعلیم کا براہ راست تعلق صحت سے بھی ہے۔ تعلیم یافتہ افراد اپنی صحت کا بہتر خیال رکھتے ہیں، صاف ستھرا ماحول اپناتے ہیں، متوازن غذا کھاتے ہیں اور بیماریوں سے بچاؤ کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی صحت اور نشوونما پر توجہ دیتی ہے، یوں آئندہ نسل بھی صحت مند پروان چڑھتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق تعلیم یافتہ معاشروں میں شرحِ اموات کم اور اوسط عمر زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، ناخواندہ افراد اکثر صحت سے غافل ہوتے ہیں، غلط علاج یا دیر سے علاج کرواتے ہیں، جس سے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔

لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں۔ اگر تعلیم صرف نمبروں اور امتحانات تک محدود ہو جائے تو یہ انسان کی ذہنی صحت پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ والدین اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ طلباء پر ضرورت سے زیادہ دباؤ نہ ڈالیں، اور تعلیمی نظام کو ایسا بنایا جائے جو بچوں کی فطری صلاحیتوں کو اجاگر کرے، نہ کہ انہیں رٹہ سسٹم میں جکڑ دے۔

آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ تعلیم ایک طاقت ہے جو فرد، خاندان، معاشرہ اور ملک کو روشن مستقبل کی طرف لے جاتی ہے۔ تعلیم ہی کے ذریعے ہم غربت، بے روزگاری، بدعنوانی، اور انتہاپسندی جیسے مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ ہمیں بطور قوم تعلیم کو اپنی ترجیح بنانا ہوگا تاکہ ہم بھی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہو سکیں۔


Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *