کیا چینی کا متبادل واقعی کینسر کے خلاف مؤثر ہو سکتا ہے؟ ایک نئی تحقیق نے اُمید جگا دی
ایک طرف دنیا کے کروڑوں افراد ذیابیطس، موٹاپے اور دیگر غذائی بیماریوں سے نبرد آزما ہیں، تو دوسری جانب خوراک سے جُڑے ایسے اجزاء پر تحقیق کی جا رہی ہے جو نہ صرف صحت کو بہتر بنائیں بلکہ بیماریوں سے تحفظ بھی فراہم کریں۔ حالیہ سائنسی تحقیق میں اسٹیویا کے عرق کو صرف ایک چینی کے متبادل سے کہیں زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق، اسٹیویا کا عرق نہ صرف ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ اس میں کچھ ایسے مرکبات بھی موجود ہیں جو کینسر جیسے مہلک مرض سے بچاؤ میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں
چینی: مٹھاس یا مہلک لت؟
سفید چینی جو ہمارے کھانوں، مشروبات، مٹھائیوں اور حتیٰ کہ بظاہر “ڈائٹ” پروڈکٹس میں بھی شامل ہوتی ہے، اب صحت کے لیے سب سے بڑے خطرات میں شمار کی جا رہی ہے۔ چینی کے مسلسل استعمال سے نہ صرف ذیابیطس بلکہ دل کی بیماریاں، جگر کے مسائل اور وزن میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت بھی اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ روزمرہ چینی کی مقدار محدود کی جائے، لیکن چینی کی لت ایسی ہے کہ اس سے چھٹکارا پانا آسان نہیں۔
اسٹیویا: قدرت کی طرف سے ایک نرالا تحفہ
ایسے میں “اسٹیویا ریباڈیانا”نامی پودا سامنے آتا ہے، جو جنوبی امریکہ میں پایا جاتا ہے اور صدیوں سے وہاں کی مقامی آبادی مٹھاس کے طور پر استعمال کرتی آ رہی ہے۔ اس پودے کے پتوں سے حاصل ہونے والا عرق چینی سے 200 گنا زیادہ میٹھا ہوتا ہے مگر اس میں کیلوریز نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔
اسٹیویا اب دنیا بھر میں بطور قدرتی میٹھاس کے استعمال ہو رہا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو ذیابیطس کا شکار ہیں یا وزن کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
تحقیق کیا کہتی ہے؟
حالیہ تحقیق جس نے عالمی طبّی حلقوں کی توجہ حاصل کی، وہ اسٹیویا کے مخصوص کیمیائی اجزاء پر کی گئی۔ ان مرکبات کو لیبارٹری میں کینسر کے خلیات پر آزمایا گیا اور حیران کن نتائج دیکھنے کو ملے۔
تحقیق میں دیکھا گیا کہ اسٹیویا کے عرق میں موجود یہ مرکبات کچھ اقسام کے کینسر سیلز کی نشوونما کو سست یا مکمل طور پر روک سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ خلیات جو تیزی سے پھیلتے ہیں — جیسا کہ بڑی آنت، چھاتی اور پروسٹیٹ کے کینسر میں دیکھنے کو ملتا ہے — ان پر اسٹیویا کے اثرات زیادہ واضح پائے گئے۔۔
کیا یہ علاج ہے؟
یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ اسٹیویا کا عرق کینسر کا براہِ راست علاج نہیں ہے، نہ ہی یہ ادویات کا متبادل ہے۔ البتہ یہ تحقیق اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہماری خوراک میں اگر اس طرح کے قدرتی اجزاء شامل ہوں تو وہ بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں
پاکستانی معاشرہ اور چینی کا جنون
ہمارے ہاں چاہے صبح کی چائے ہو یا شادی کی رسومات، مٹھاس کے بغیر کچھ بھی ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس روایت نے ہمیں ذیابیطس کی شرح میں دنیا کے سرِفہرست ممالک میں لا کھڑا کیا ہے۔ پاکستان میں ہر چوتھا بالغ فرد ذیابیطس کا شکار ہے، جبکہ بچوں اور نوجوانوں میں بھی موٹاپے اور انسولین کی مزاحمت جیسے امراض بڑھ رہے ہیں۔
ایسے میں اگر کوئی قدرتی، بغیر کیلوریز والا میٹھاس کا متبادل سامنے آتا ہے، تو اسے اپنانا صرف صحت کا نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا بھی سوال ہے۔
کیا عام لوگ اسٹیویا کا استعمال کر سکتے ہیں؟
جی ہاں، اسٹیویا اب پاکستان سمیت دنیا بھر میں آسانی سے دستیاب ہے۔ اسے پاوڈر، ڈراپس، گولیوں یا مشروبات میں شامل کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بازار میں کئی ایسی مصنوعات دستیاب ہیں جن میں اسٹیویا استعمال کیا گیا ہے — جیسے شکر کی جگہ استعمال ہونے والے ساشے، کولڈ ڈرنکس، چاکلیٹ یا یہاں تک کہ بیکڈ آئٹمز۔
البتہ صارفین کو چاہیے کہ وہ “100% اسٹیویا” والے برانڈز کا انتخاب کریں کیونکہ بعض اوقات تجارتی کمپنیز اسٹیویا کے ساتھ دوسرے مصنوعی اجزاء بھی شامل کر دیتی ہیں، جو کہ نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر اسٹیویا کی منظوری
امریکہ، یورپ، جاپان، آسٹریلیا اور خلیجی ممالک کی فوڈ اتھارٹیز پہلے ہی اسٹیویا کو محفوظ قرار دے چکی ہیں۔ اب جنوبی ایشیا کے صارفین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ باخبر انتخاب کریں۔
احتیاط بھی ضروری ہے
اگرچہ اسٹیویا کو محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن جیسے ہر چیز میں اعتدال ضروری ہے، ویسے ہی اس کا حد سے زیادہ استعمال بھی بعض افراد میں معدے کی خرابی یا بلڈ پریشر کی کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ خاص طور پر حاملہ خواتین، بچے اور دل کے مریضوں کو پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔
ایک نئی سوچ کی ضرورت
اگر ایک سادہ سا پودا ہماری مٹھاس کی طلب پوری کر کے ہمیں بیماریوں سے بچا سکتا ہے، تو کیا یہ وقت نہیں کہ ہم اپنی روایتی خوراک پر نظرِثانی کریں؟ اسٹیویا صرف ایک میٹھاس نہیں بلکہ صحت مند زندگی کی طرف ایک قدم ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں اس تبدیلی کا آغاز کریں، تاکہ آنے والی نسلیں صرف مٹھاس کا ذائقہ ہی نہیں بلکہ ایک صحت مند مستقبل بھی چکھ سکیں۔