آم — فطرت کی مٹھاس، صحت کی سوغات

آم، جسے “پھلوں کا بادشاہ” کہا جاتا ہے، صرف ایک پھل نہیں بلکہ موسمِ گرما کی پہچان اور فطرت کی طرف سے ایک بے مثال تحفہ ہے۔ دنیا بھر میں اس کا ذائقہ، خوشبو، رنگ اور غذائیت پسند کی جاتی ہے، اور پاکستان کو اس حوالے سے خاص مقام حاصل ہے۔
آم وٹامن بھرپور ہوتا ہے جو بینائی کو تیز، جلد کو شاداب اور قوتِ مدافعت کو مضبوط بنانے میں مددگار ہوتے ہیں۔ اس میں فائبر کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جو نظامِ ہضم کو بہتر بناتی ہے، جب کہ اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو مختلف بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ آم میں موجود بیٹا کیروٹین دل کی بیماریوں، دماغی کمزوری اور جلدی مسائل سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ آم میں شامل قدرتی شکر جسم کو فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق آم میں موجود دماغ کی نشوونما کے لیے نہایت مفید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں، بڑوں اور بزرگوں کے لیے یہ ایک مکمل اور صحت بخش پھل مانا جاتا ہے۔آم کے غذائی فوائد: صحت کا خزانہ بھی گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔
نقصانات: اعتدال میں ہی فائدہ ہے
اگرچہ آم صحت کے لیے بے شمار فوائد رکھتا ہے، لیکن اس کا حد سے زیادہ استعمال کچھ افراد کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو آم کا استعمال بہت محدود مقدار میں کرنا چاہیے، کیونکہ اس میں موجود قدرتی شکر خون میں گلوکوز کی سطح کو بڑھا سکتی ہے۔ اسی طرح، آم کی زیادتی سے جسم میں گرمی پیدا ہو سکتی ہے جو کہ معدے یا جلدی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔
آم کی اہمیت: معیشت، ثقافت اور برآمدات میں نمایاں مقام
آم پاکستان کی زرعی معیشت میں ایک نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان دنیا کے بڑے آم برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اور ہر سال لاکھوں ٹن آم خلیجی، یورپی اور ایشیائی ممالک کو برآمد کیے جاتے ہیں۔ آم نہ صرف معیشت کو فروغ دیتا ہے بلکہ پاکستانی ثقافت، مہمان نوازی اور گرمیوں کی خوشیوں کا لازمی جزو بھی ہے۔