بارش کا موسم: رحمت یا زحمت؟

بارش کا موسم ہمیشہ سے انسان کے لیے کشش اور حیرت کا باعث رہا ہے۔ کہیں یہ زمین کو سیراب کر کے زندگی کو جِلا بخشتی ہے تو کہیں یہی بارش کا موسم مسائل اور مشکلات کھڑا کر دیتا ہے۔ قدرت نے بارش کو انسانوں، جانوروں اور زمین کے لیے ایک بڑی نعمت بنایا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ بارش کا موسم رحمت ہے یا زحمت؟

بارش کا موسم: ایک قدرتی رحمت

جب بارش کی بوندیں زمین پر گرتی ہیں تو سوکھے کھیت سبزہ زار میں بدل جاتے ہیں۔ کسانوں کے چہرے کھل اٹھتے ہیں اور زمین نئی فصلوں کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔ بارش کا موسم ماحول کو ٹھنڈا اور خوشگوار بنا دیتا ہے، درختوں کی ہریالی نکھر آتی ہے اور فضاء میں مٹی کی خوشبو انسان کے دل کو سکون دیتی ہے۔ شہروں میں بھی بارش کی وجہ سے گرمی کا زور ٹوٹتا ہے اور لوگ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے بارش کا موسم یقیناً ایک بڑی رحمت ہے۔

بارش کا موسم: مشکلات اور زحمتیں

دوسری طرف، بارش کا موسم کئی بار زحمت بھی بن جاتا ہے۔ شہروں میں ناقص نکاسی آب کے نظام کی وجہ سے سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرتی ہیں۔ ٹریفک جام، بجلی کا بند ہونا اور بیماریوں کا پھیلاؤ شہریوں کے لیے بڑی پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہروں میں بارش کا موسم اکثر اربن فلڈنگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس سے نہ صرف جانی نقصان ہوتا ہے بلکہ گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہو جاتا ہے۔

بارش اور انسانی رویے

دلچسپ بات یہ ہے کہ بارش کا موسم انسان کی طبیعت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ کچھ لوگ بارش کو رومانی کیفیت کے طور پر دیکھتے ہیں اور بارش میں بھیگنے کو انجوائے کرتے ہیں۔ شاعر اور ادیب بارش کا موسم اپنی تحریروں میں خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ لیکن وہی بارش جب لمبے ٹریفک جام میں پھنسا دیتی ہے یا گھر کا سامان خراب کرتی ہے تو یہی خوشی غم میں بدل جاتی ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *