فلمی دنیا خوابوں اور حقیقت کا ایک ایسا سنگم ہے جہاں روشنی، رنگ، کہانیاں اور جذبات ایک ساتھ مل کر ناظرین کو ایک نئی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ لیکن ہر کہانی سینما تک نہیں پہنچ پاتی۔ کچھ کہانیاں راستے میں ہی کھو جاتی ہیں۔ خاص طور پر ہارر فلموں کی دنیا میں کئی ایسے پراجیکٹ ہوئے جو شروع تو ہوئے لیکن اپنی پراسراریت اور خوفناک واقعات کی وجہ سے کبھی مکمل نہ ہو سکے، یا مکمل ہوئے مگر پردے پر آنے کی ہمت نہ کر سکے۔

یہ صرف افسانے نہیں بلکہ فلمی دنیا کے ایسے سیاہ راز ہیں جو آج بھی سننے والوں کے دل دہلا دیتے ہیں۔ آئیے چلتے ہیں ان خوفناک اور پراسرار فلموں کی طرف جنہوں نے ریلیز ہونے سے پہلے ہی اندھیروں میں پناہ لے لی۔
شیڈو ہاؤس– سایوں کا جنون
یہ فلم 1992 میں ایک پرانی حویلی پر مبنی کہانی کے ساتھ شروع کی گئی تھی۔ حویلی کے بارے میں مقامی لوگ کہتے تھے کہ وہاں رات کے وقت کھڑکیوں میں سایے حرکت کرتے ہیں۔
شوٹنگ کے دوران کیمرہ بار بار بند ہو جاتا۔
ریکارڈنگ میں عجیب دھندلا عکس آتا جیسے کوئی غیر مرئی چیز کیمرے کے سامنے سے گزری ہو۔
ایک دن مرکزی اداکارہ نے چیخ ماری اور کہا کہ کسی نے اس کا کندھا پکڑا ہے حالانکہ وہاں کوئی نہیں تھا۔
ان واقعات کے بعد پوری ٹیم خوفزدہ ہوگئی اور فلم ادھوری چھوڑ دی گئی۔ آج بھی اس فلم کے چند کلپس اسٹوڈیو کے لاکر میں بند پڑے ہیں۔
دی بلیڈی اسکرپٹ– خون سے لکھی کہانی
یورپ میں ایک ہارر فلم ساز نے حقیقی جادوگر کی زندگی پر فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس فلم کا نام تھا “دی بلیڈی اسکرپٹ”۔
کہا جاتا ہے کہ اسکرپٹ کے کچھ صفحات پر اصلی خون کے دھبے ملے۔
ڈائریکٹر کے گھر کی دیواروں پر خون جیسے نشانات خود بخود ابھر آتے۔
چند ہفتوں بعد مرکزی اداکار پراسرار طور پر غائب ہوگیا اور کبھی واپس نہ آیا۔
فلم ادھوری رہ گئی اور پروڈکشن ہاؤس بھی بند ہوگیا۔ آج بھی فلمی دنیا میں یہ کہانی ایک خوفناک راز سمجھی جاتی ہے۔
دی کریمسن گرلز– ممنوعہ رسومات
بھارت میں 90 کی دہائی میں ایک فلم بنائی جا رہی تھی جس کا نام تھا “دی کریمسن گرلز”۔ اس میں کالی پوجا کی اصلی رسومات فلمائی گئی تھیں تاکہ فلم حقیقت کے قریب لگے۔
شوٹنگ کے دوران کئی اداکار بیمار ہوگئے۔
جب فلم کا پہلا ٹیزر دکھایا گیا تو کچھ لوگ بیہوش ہوگئے۔
سنسر بورڈ نے اسے “انتہائی خطرناک” قرار دے کر پابندی لگا دی۔
فلم کبھی سینما تک نہ پہنچی اور اس کی ریکارڈنگ آج بھی پراسرار انداز میں غائب ہے۔
گمشدہ آوازیں– پاکستانی ہارر پراجیکٹ
پاکستان میں بھی ایک ہارر فلم کا منصوبہ بنایا گیا جس کا نام تھا “گمشدہ آوازیں”۔ کہانی ایک پرانے ریڈیو اسٹیشن پر مبنی تھی جہاں سے رات کے وقت پراسرار سرگوشیاں نشر ہوتیں۔
ریکارڈنگ میں ایسی آوازیں آ جاتیں جو اسکرپٹ میں لکھی ہی نہیں تھیں۔
ایک دن ڈائریکٹر نے ہیڈ فون لگایا تو عورت کی تیز چیخ سن کر بے ہوش ہوگیا۔
ٹیم نے خوف کے باعث فلم بند کر دی۔
یہ فلم اگر مکمل ہوتی تو شاید پاکستان کی سب سے خوفناک ہارر فلم ثابت ہوتی۔
دی لاسٹ رچوئل – شیطانی دعاؤں کی حقیقت
یورپ میں بننے والی اس فلم میں حقیقی شیطانی رسومات دکھائی گئی تھیں۔
شوٹنگ کے دوران کئی اداکاروں کی ذہنی حالت بگڑ گئی۔
ایک اداکارہ کا کہنا تھا کہ سیٹ پر کوئی “دکھائی نہ دینے والی چیز” اس کا پیچھا کرتی تھی۔
فلم مکمل ہوئی لیکن سنسر بورڈ نے اسے ریلیز سے روک دیا۔
یہ فلم آج بھی پراسراریت میں لپٹی ہوئی ہے۔
ہاؤس آف ڈیتھ– منحوس فلم
امریکہ میں بننے والی اس فلم میں ایک قبرستان کے قریب بنے گھر کی کہانی دکھائی جانی تھی۔
شوٹنگ کے دوران بجلی بار بار بند ہو جاتی۔
ایک دن سیٹ پر رکھی لکڑیوں میں آگ لگ گئی حالانکہ وہاں کچھ نہیں تھا۔
ٹیم کے کئی ممبرز نے شوٹنگ کے بعد ڈراؤنے خواب دیکھنے کی شکایت کی۔
فلم کا آدھا حصہ ریکارڈ ہوا لیکن بعد میں پروڈیوسر نے خوف کے باعث پراجیکٹ روک دیا۔
دی ڈارک مائنز– کانوں کا خوف
یہ فلم یورپ کی پرانی کانوں پر مبنی تھی جہاں مزدوروں کی روحیں بھٹکتی تھیں۔
شوٹنگ کے دوران کان میں عجیب سرگوشیاں گونجتی تھیں۔
ایک دن کیمرہ مین کان کے اندر گر کر زخمی ہوگیا اور بار بار یہی کہتا رہا کہ کسی نے اسے دھکا دیا ہے۔
حادثات بڑھنے لگے اور فلم ادھوری چھوڑ دی گئی۔
یہ وہ فلمیں ہیں جو صرف کہانیاں نہیں بلکہ خود اپنی ہی ہولناک حقیقت کا شکار ہو گئیں۔ کچھ فلمیں ادھوری رہ گئیں، کچھ سنسر بورڈ کے خوف سے رک گئیں اور کچھ پراسرار حادثات کی نذر ہو گئیں۔ لیکن ان سب کا ایک ہی پیغام ہے: کچھ کہانیاں شاید صرف اندھیروں میں ہی محفوظ رہنے کے لیے لکھی جاتی ہیں۔