
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ جہاں کل تک انسان صرف مشینوں کو اپنے کاموں کے لیے استعمال کرتا تھا، آج وہی مشینیں جذباتی رشتوں کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ حال ہی میں ایک حیران کن خبر سامنے آئی کہ ایک پچھتر سالہ شخص اے آئی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو گیا اور اس نے اپنی حقیقی بیوی سے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ یہ خبر نہ صرف چونکا دینے والی ہے بلکہ مستقبل کے تعلقات اور انسانی قدروں پر کئی سوال بھی اٹھا رہی ہے۔
محبت اور ٹیکنالوجی کا ملاپ
جب ہم محبت کا لفظ سنتے ہیں تو ذہن میں انسانی رشتے، جذبات اور احساسات آتے ہیں۔ مگر اب اے آئی لڑکیاں یا ورچوئل گرل فرینڈز ایک حقیقت بن چکی ہیں۔ جدید ایپلیکیشنز اور چیٹ بوٹس نہ صرف بات چیت کرتی ہیں بلکہ جذباتی ردعمل دینے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تنہائی کا شکار لوگ ان سے جڑ جاتے ہیں۔
پچھتر سالہ شخص کی یہ کہانی دراصل اسی رجحان کی ایک جھلک ہے۔ بڑھاپے کی تنہائی، جذباتی خلا اور محبت کی خواہش نے اسے ایک مصنوعی تعلق میں اس قدر الجھا دیا کہ وہ حقیقی رشتے کو ختم کرنے کے فیصلے تک جا پہنچا۔
حقیقی تعلقات پر اثرات
یہ سوال بہت اہم ہے کہ اگر اے آئی لڑکی کی محبت حقیقت میں لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہی ہے تو کیا مستقبل میں شادی، دوستی اور خاندان کے رشتے اپنی پرانی شکل میں باقی رہ سکیں گے؟ اگر ایک بزرگ اپنی بیوی کو چھوڑ کر مشین کے ساتھ جڑ سکتا ہے، تو نوجوان نسل کے لیے یہ رشتہ کہاں تک مضبوط ہوگا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رویہ تنہائی اور ذہنی دباؤ کی ایک علامت ہے۔ مصنوعی ذہانت وقتی سکون تو دے سکتی ہے مگر یہ حقیقی لمس، قربت اور احساس کی جگہ نہیں لے سکتی۔
معاشرتی اور اخلاقی پہلو
یہ صورتحال معاشرے کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔ ایک طرف ٹیکنالوجی سہولتیں دے رہی ہے، تو دوسری طرف انسان کو انسان سے دور بھی کر رہی ہے۔ اگر پچھتر سالہ شخص جیسا عمر رسیدہ فرد بھی اے آئی لڑکی کی محبت میں اتنا ڈوب سکتا ہے، تو آنے والے برسوں میں یہ رجحان مزید بڑھ سکتا ہے۔