
انسان کی زندگی میں سب سے بڑی دولت اگر کوئی ہے تو وہ تعلیم ہے۔ یہ ایک ایسا خزانہ ہے جو وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا رہتا ہے۔ دولت، طاقت اور شہرت وقتی چیزیں ہیں لیکن تعلیم کا نور زندگی کا سب سے بڑا خزانہ ہے کیونکہ یہ انسان کو شعور، علم اور کامیابی کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔ تعلیم ایک ایسا چراغ ہے جو اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے اور جہالت کے اندھیروں کو ختم کر دیتا ہے۔
تعلیم کا نور اور انسانی شخصیت
تعلیم انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے اور اسے باشعور بناتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ شخص کی گفتگو، سوچ اور عمل سب مختلف ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتا ہے اور اپنے رویے سے دوسروں کو متاثر کرتا ہے۔
تعلیم انسان کو برائی سے بچاتی ہے، اسے اچھے اور برے میں فرق سکھاتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ شخص کبھی جہالت، تعصب اور ناانصافی کی راہ اختیار نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رویے انسانیت کے لیے نقصان دہ ہیں۔
تعلیم اور معاشرتی ترقی
دنیا کی کوئی بھی قوم تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں آگے بڑھیں جنہوں نے تعلیم کو اپنا ہتھیار بنایا۔ سائنس، ٹیکنالوجی، طب اور ادب کے میدان میں ترقی کرنے والی تمام اقوام نے تعلیم کو بنیادی ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ دنیا کی رہنمائی کر رہی ہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ خوشحال اور ترقی یافتہ ہو تو ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو بہترین تعلیم فراہم کرنا ہوگی۔
تعلیم اور کردار سازی
تعلیم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کے کردار کو مضبوط بناتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ انسان سچائی، دیانت داری، صبر اور قربانی جیسے اوصاف کا مالک ہوتا ہے۔ تعلیم انسان کو نہ صرف کامیابی کے راستے دکھاتی ہے بلکہ اخلاقی اقدار کو بھی پروان چڑھاتی ہے۔
اگر دولت ہو لیکن تعلیم نہ ہو تو انسان کے پاس شعور نہیں ہوگا۔ لیکن اگر تعلیم ہو تو انسان اپنی محنت سے دولت بھی حاصل کر سکتا ہے اور ایک باوقار زندگی بھی گزار سکتا ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اصل دولت سونا چاندی نہیں بلکہ تعلیم ہے۔
تعلیم اور مستقبل کی کامیابی
ایک معاشرہ تب ہی ترقی کرتا ہے جب وہ اپنی نئی نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتا ہے۔ اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں وہ ادارے ہیں جہاں سے بچے نہ صرف علم حاصل کرتے ہیں بلکہ عملی زندگی کے لیے خود کو تیار کرتے ہیں۔ اگر والدین اور اساتذہ مل کر بچوں کو تعلیم کی اہمیت سمجھائیں تو وہ بہتر مستقبل کے معمار بن سکتے ہیں۔
تعلیم کے بغیر نوجوان اپنی صلاحیتوں کو ضائع کر دیتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے پاس علم ہو تو وہ اپنی قوم اور ملک کے لیے عظیم کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں۔
تعلیم اور مذہب
ہمارا مذہب اسلام بھی تعلیم پر بہت زور دیتا ہے۔ قرآن مجید کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” سے شروع ہوئی جو پڑھنے اور علم حاصل کرنے کا حکم ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے بھی فرمایا کہ “علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم صرف دنیاوی کامیابی کے لیے نہیں بلکہ اخروی کامیابی کے لیے بھی لازمی ہے۔
جب انسان تعلیم کا نور حاصل کرتا ہے تو وہ نہ صرف دنیاوی ترقی کرتا ہے بلکہ اپنے رب کو پہچانتا ہے اور زندگی کا اصل مقصد بھی سمجھتا ہے۔
تعلیم کا پیغام
اگر ہم معاشرے میں خوشحالی دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ ہر بچے کو تعلیم دینا والدین، اساتذہ اور حکومت سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر ایک بچہ تعلیم سے محروم رہ جائے تو یہ نہ صرف اس کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
یاد رکھیں کہ تعلیم ایک ایسا خزانہ ہے جو بانٹنے سے کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے۔ ایک استاد جب اپنے شاگرد کو تعلیم دیتا ہے تو وہ اپنے علم میں کمی نہیں بلکہ اضافہ کرتا ہے۔ یہی تعلیم کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
یہ انسان کو شعور، ترقی، کامیابی، عزت اور اخلاق عطا کرتا ہے۔ جس کے پاس تعلیم ہے وہ حقیقی دولت مند ہے، اور جس کے پاس تعلیم نہیں وہ سب کچھ رکھتے ہوئے بھی خالی ہے۔