منگنی کی انگوٹھی الٹے ہاتھ کی چوتھی انگلی میں ہی کیوں؟

منگنی کی انگوٹھی الٹے ہاتھ کی چوتھی انگلی میں ہی کیوں؟

انگوٹھی الٹے ہاتھ کی چوتھی

دنیا کے کئی حصوں میں منگنی یا شادی کی انگوٹھی الٹے ہاتھ کی چوتھی انگلی میں پہننے کی روایت صدیوں پرانی ہے، اور اس کے پیچھے دلچسپ تاریخی اور سائنسی وجوہات چھپی ہوئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس انگلی کو “رِنگ فنگر” کہا جاتا ہے اور قدیم رومن تہذیب میں یہ مانا جاتا تھا کہ اس میں سے ایک رگ براہِ راست دل تک جاتی ہے، جسے “وینا امورِس” یا “رگِ محبت” کہا جاتا تھا۔ اس عقیدے کی بنیاد پر محبت اور وابستگی کی علامت کے طور پر انگوٹھی اسی انگلی میں پہننے کا رواج عام ہوا۔

وقت کے ساتھ یہ روایت یورپ سے دنیا کے دیگر خطوں تک پھیل گئی، خاص طور پر مغربی ممالک میں یہ ایک مضبوط ثقافتی علامت بن گئی۔ آج بھی بیشتر ممالک میں منگنی یا شادی کی انگوٹھی بائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی میں ہی پہنائی جاتی ہے، اگرچہ کچھ ثقافتوں میں اسے دائیں ہاتھ میں پہننے کا رواج بھی پایا جاتا ہے۔

ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ انگوٹھی کا بائیں ہاتھ میں ہونا عملی طور پر بھی بہتر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ زیادہ تر لوگ دائیں ہاتھ سے کام کرتے ہیں، اس لیے بائیں ہاتھ میں پہننے سے انگوٹھی کو کم نقصان پہنچتا ہے اور یہ زیادہ عرصے تک محفوظ رہتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنسی اعتبار سے “رگِ محبت” والی تھیوری درست نہیں، کیونکہ جدید طب کے مطابق تمام انگلیوں کی رگیں دل تک بالواسطہ پہنچتی ہیں۔ تاہم یہ روایت اتنی گہری جڑ پکڑ چکی ہے کہ آج بھی لاکھوں لوگ اسے اپنی محبت اور وعدے کی سب سے خوبصورت علامت مانتے ہیں۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *